January 19, 2022

روس پاکستان کو گیس فراہم کرنا چاہتا ہے

 1,477 total views

وفاقی وزیربرائے اقتصادی امور وچئیرمین اکنامک کوارڈینیشن کیمٹی جناب عمرایوب خان کی قیادت میں پاکستانی اعلٰی سطح وفد پاک روس بین الحکومتی ساتویں اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ گیا۔ اجلاس میں تجارت،معیشت،ریلوے،گیس لائن،پاک روس ڈائریکٹ فلائیٹ،سائنسی اور تکنیکی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سمیت دیگر شعبوں میں بھی اہم پیش رفت۔پاک روس بین الحکومتی ساتویں اجلاس میں نئی علاقائی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت معیشت کے اہم شعبوں میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جن میں آئی ٹی، زراعت، بجلی، پٹرولیم، ریلوے، پانی وتجارت شامل ہیں۔میڈیا ذرائع کے مطابق دونوں ممالک ممکنہ طور پر دبئی کے راستے تمام ملک کے لیے براہ راست پرواز کی اجازت دیں گے اور اس سلسلے میں روس کی فیڈرل ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی اور پاکستان سول ایوی ایشن ایجنسی کے درمیان معقول معاہدہ طہ پایا۔روس نے پاکستان ریلوے کے لیے جدید انجن بنانے کے لیے اپنی مہارت اور سرمایہ کاری بڑھانے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستان اور روس نے تین روزہ بات چیت کے دوران دوطرفہ تجارت کو ممکنہ حد تک بڑھانے کے مواقع بھی باہمی گفتگو کی کیونکہ 2020 میں روس پاکستان تجارتی ٹرن اوور 2019 کے مقابلے میں 45.8 فیصد بڑھ کر 789.8 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔وفاقی وزیر جناب عمر ایوب خان نے تین روزہ مذاکرات کے لیے روس میں اعلٰی سطح وفد کی قیادت کی اور مثبت پیش رفت یہ ہے کہ معیشت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سولہ رکنی وفد بھی روس میں تاجروں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے موجود تھا۔سرکاری وفد میں سیکرٹری ای اے ڈی اور مختلف وزارتوں اور ایف بی آر کے سینئر حکام بھی شامل تھے۔ روس سرکاری اور نجی صارفین کے لیے اسمبل شدہ گاڑیوں کی فراہمی اور پاکستان میں وہیکل اسمبلی پروجیکٹ کے نفاذ میں بھی اپنی دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔اقتصادی محاذوں پر ماسکو 3 بلین ڈالر کے پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے پر شیئر ہولڈرز کے معاہدے کے لیے بھی عملی طور پر بات چیت ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر یا جنوری کے شروع میں شیئر ہولڈنگ کے معاہدے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور جناب عمرایوب خان کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے پائپ لائن مینوفیکچرنگ کی ٹی ایم کے سہولت کا بھی دورہ کیا جسے پاکستان میں پی ایس جی پی منصوبے میں استعمال کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ روس بھی پاکستان کے لیے ایل این جی پر مبنی تیرتے پاور پلانٹس تیار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور پاکستان کو گیس فراہم کرنا چاہتا ہے۔ ماسکو پاکستان کے پانی کے شعبے میں اپنی مہارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے علاوہ پاور سیکٹر کی ٹرانسمیشن لائنوں میں بھی سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی خوراک اور زرعی مصنوعات روس بھیجے۔ دونوں فریقین نے اب تک کسٹمز ڈیوٹی کے نظام پر بھی بات چیت کی ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک نےایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔ روس پہلے ہی پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبے میں معقول تعلقات استوار کر چکا ہے اور اب وہ ملک میں معیشت کے اہم شعبوں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز قائم کرنے والا روس اس کا رخ موڑنے اور حکومت پاکستان کو بیل آؤٹ کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ سرجیکل، گارمنٹس، فوڈ اور ایگریکلچر کی نمائندگی کرنے والے پاکستان کے 16 رکنی تجارتی وفد نے روسی تاجروں کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں۔روسی میڈیا نے پاکستان کے ساتھ باہمی مذاکرات کو انتہائی اہمیت دی اور روس کی جانب سے گرم جوشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رشین بڑے میڈیا ہاؤسزز نے وفاقی وزیر جناب عمرایوب کا انٹرویو کیا اور روسی میڈیا کی جانب سے اس دورے کو بھرپور کوریج دی گئی۔جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے دور کے آغاز کا قوی امکان ہے۔

Previous post وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و چیرمین اکنامک کوارڈینیشن کمیٹی عمر ایوب خان کی سربراہی میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے روس میں یورال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گیے
Next post سعودی عرب پاکستان کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر فنانسنگ کی سہولت فراہم کرے گا